Question:

محاورہ "نو دو گیارہ ہونا" سے کیا مراد ہے؟

Show Hint

یہ محاورہ اس وقت بولتے ہیں جب کوئی چپکے سے چلا جائے۔
Updated On: Oct 1, 2026
  • بھاگ جانا
  • کسی کو مارنا
  • گنتی یاد رکھنا
  • قید ہو جانا
Show Solution
collegedunia
Verified By Collegedunia

The Correct Option is A

Solution and Explanation

مرحلہ 1: سوال کو سمجھیں:
محاورہ "نو دو گیارہ ہونا" کا مطلب پوچھا گیا ہے۔ محاورے کا مطلب لفظی معنی سے مختلف ہوتا ہے۔

مرحلہ 2: اختیار 1 کو دیکھیں:
"بھاگ جانا": "نو دو گیارہ ہونا" کا مطلب چپکے سے بھاگ جانا ہے۔ نو اور دو ملا کر گیارہ بنتے ہیں، اور "گیارہ" کو "ہو جانا" یعنی غائب ہو جانا۔ یہ اختیار درست ہے۔

مرحلہ 3: اختیار 2 کو دیکھیں:
"کسی کو مارنا": کسی کو مارنا کا اس محاورے سے کوئی تعلق نہیں، اس لیے غلط ہے۔

مرحلہ 4: اختیار 3 کو دیکھیں:
"گنتی یاد رکھنا": گنتی یاد رکھنا بھی اس محاورے کا مطلب نہیں، حالانکہ اس میں عدد آتے ہیں۔ غلط ہے۔

مرحلہ 5: اختیار 4 کو دیکھیں:
"قید ہو جانا": قید ہو جانا بھاگ جانے کا الٹ ہے، اس لیے غلط ہے۔

حتمی جواب:
نو دو گیارہ ہونا کا مطلب بھاگ جانا ہے، یعنی اختیار 1۔ \[ \boxed{\text{option 1}} \]
Was this answer helpful?
0
0

Top CUET Urdu Questions

View More Questions